اب تک ہماری عقل سے پردہ ہٹا نہیں

Iftikhar Ahamad Siddiqi

اب تک ہماری عقل سے پردہ ہٹا نہیں

سمجھا اسی کو آسرا جو آسرا نہیں

انسانیت کی حد میں جو بندہ خدا نہیں

اس کا وجود اس کے کسی کام کا نہیں

خود آدمی کا دل ہی اگر رہنما نہیں

دنیا کی رہبری سے اسے فائدہ نہیں

آساں تو ہے زبان سے کہہ دوں خدا نہیں

مشکل یہ آ پڑی ہے کہ دل مانتا نہیں

اظہار واقعہ ہے یہ تجھ سے گلہ نہیں

دنیا یہ کہہ رہی ہے کہ اس کا خدا نہیں

تنظیم کائنات ہمارے سپرد ہے

ہم سے بڑا جہان میں پیدا ہوا نہیں

کہتے ہیں جس کو عرش مرے دل کا نام ہے

دل میں مرے نہیں تو کہیں بھی خدا نہیں

انساں کی ذات مظہر تکمیل کائنات

جس کی یہ ابتدا ہو تو پھر انتہا نہیں

سرکش بنا رہی ہیں تری بے نیازیاں

وہ تجھ کو کیا بتاؤں جو تجھ سے چھپا نہیں

کس درجہ دل فریب طلسم نمود ہے

ہم توڑنا بھی چاہیں تو یہ ٹوٹتا نہیں