دنیا میں بے حجاب مری ذات بھی تو ہو
Iftikhar Ahamad Siddiqiدنیا میں بے حجاب مری ذات بھی تو ہو
اے عشق تیری کوئی کرامات بھی تو ہو
کچھ زیر غور صورت حالات بھی تو ہو
سرکار احترام روایات بھی تو ہو
تاریکیوں کی ختم کبھی رات بھی تو ہو
اے کردگار صبح مکافات بھی تو ہو
تو جانتا ہے پھر بھی ہے اقرار معصیت
شرمندۂ وجود مری ذات بھی تو ہو
یہ کیا کہ اہل زہد ہیں اور بارگاہ ناز
محفل میں کوئی رند خرابات بھی تو ہو
منصور کے فسانے کا کیا ذکر بار بار
یہ عاشقی میں کوئی نئی بات بھی تو ہو
اب جلوہ گاہ دل کو بنا لے بجائے طور
تھوڑی بہت تلافئ مافات بھی تو ہو
یہ بے رخی یہ قہر یہ تیور یہ برہمی
روداد غم میں ایسی کوئی بات بھی تو ہو
تو شام ہی سے فکر سحر میں نڈھال ہے
اے بد نصیب پہلے بسر رات بھی تو ہو
فطرت نے دے کے گرمیٔ دل چال یہ چلی
انسان کی انا کو کہیں مات بھی تو ہو
روداد غم جفائے فلک داستان ہجر
سب کچھ کہیں گے ان سے ملاقات بھی تو ہو