دل پہ کیسی یہ بپتا پڑی
Badr Jamaliدل پہ کیسی یہ بپتا پڑی
ہے رواں آنسوؤں کی جھڑی
پھر نظر اس نظر سے لڑی
آگے آگے ہے منزل کڑی
ذکر ان عارضوں کا حسیں
بات ان گیسوؤں کی بڑی
چھاؤں زلفوں کی پھر ڈھونڈ لو
دھوپ ہے سخت منزل کڑی
ان کو زیبا ہے ان کا محل
مجھ کو پیاری مری جھونپڑی
سوچ لے غم کا سودا نہ کر
غم جمالیؔ ہے نعمت بڑی