گلشن دہر کی فضا اب نہیں سوگوار کیا

Iftikhar Ahamad Siddiqi

گلشن دہر کی فضا اب نہیں سوگوار کیا

دور خزاں سے ہو گئی عہدہ برا بہار کیا

محرم ذات تو نہیں عکس صفات ذات ہوں

میرا وجود وہم ہے وہم کا اعتبار کیا

ساز حیات میں نہ ہو نغمۂ سوز دل اگر

پھر یہ گداز درد کیا پھر غم عشق یار کیا

اپنی خودی کو کر بلند اپنی خودی سے کام لے

آج کا اعتبار کر کل پہ ہے اختیار کیا