زباں پر آرزو کی بات لانا سخت مشکل ہے

Badr Jamali

زباں پر آرزو کی بات لانا سخت مشکل ہے

مگر راز محبت کا چھپانا سخت مشکل ہے

یہی آئین الفت ہے یہی ذوق وفا کوشی

اگرچہ زخم کھا کر مسکرانا سخت مشکل ہے

اسی منزل کی جانب بڑھ رہا ہے ہر قدم اپنا

جدھر اک اک قدم آگے بڑھانا سخت مشکل ہے

ہمیں لے جا رہا ہے اضطراب شوق اس در پر

جہاں سنتے ہیں قسمت آزمانا سخت مشکل ہے

جلائیں گے چراغ آرزو تاریکیٔ غم میں

یہ کچھ آساں نہیں ہے ہم نے مانا سخت مشکل ہے

ترے ہر ناروا جور و ستم کو بھول سکتا ہوں

تری شان کرم کو بھول جانا سخت مشکل ہے

عموماً مسکراتا ہوں جمالیؔ جھوم جاتا ہوں

کہ جس عالم میں اکثر مسکرانا سخت مشکل ہے