عجیب چیز ہے دل آدمی کے سینے میں

Iftikhar Ahamad Siddiqi

عجیب چیز ہے دل آدمی کے سینے میں

ہے کائنات کا ہر راز اس دفینے میں

نہ الجھنیں ہوں نہ دشواریاں ہوں جینے میں

ابھی ہے زندگی اتنی کہاں قرینے میں

تلاش شرط سبھی کچھ تمہاری ذات میں ہے

ملیں گے گوہر نایاب اس خزینے میں

خرد کا ضابطۂ زیست کچھ نہ کام آیا

جنوں سے آ تو گئی زندگی قرینے میں

قفس میں رہ کے بھی غم تھا قفس میں چھپ کے بھی غم

بڑی عجیب سی دشواریاں ہیں جینے میں

یہی تو شکوہ جنوں کو رہا کہ اہل خرد

لہو کا رنگ نہیں دیکھتے پسینے میں

ہے زیست تنگ مگر موت سے گریزاں ہیں

خدا ہی جانے ہے کتنی مٹھاس جینے میں