کوئی تکلیف ہماری ہے نہ غم آپ کے ہیں

Iftikhar Ahamad Siddiqi

کوئی تکلیف ہماری ہے نہ غم آپ کے ہیں

آج سے آپ ہمارے ہیں نہ ہم آپ کے ہیں

یہ حقیقت ہے بہت جور و ستم آپ کے ہیں

پھر بھی ایمان سے کہتے ہیں کہ ہم آپ کے ہیں

اک بہانہ ہمیں مل جائے گا جینے کے لئے

اوپری دل ہی سے کہہ دیجئے ہم آپ کے ہیں

یک بیک میری جبیں میں تڑپ اٹھے سجدے

میں سمجھتا ہوں یہاں نقش قدم آپ کے ہیں

بعض اوقات خوشی جان پہ بن جاتی ہے

ہم سے ہرگز نہ کہیں آپ کہ ہم آپ کے ہیں

جذبۂ عشق تو مبہم کبھی ہوتا ہی نہیں

آپ کی ضد پہ کہے دیتے ہیں ہم آپ کے ہیں

ہم بھی ہیں کار خدائی میں برابر کے شریک

آپ کہتے ہیں تو یہ لوح و قلم آپ کے ہیں

چٹکیاں لیں دل بے تاب میں تو ہنس ہنس کر

کتنے معصوم یہ انداز ستم آپ کے ہیں

ہم وفا کیشوں کے دم سے ہے یہ سطوت یہ عروج

آپ کے ہم ہیں تو یہ جاہ و حشم آپ کے ہیں

ہم سے کہتے ہیں کہ تعبیر بتانا اس کی

خواب میں ہم نے قسم کھائی ہے ہم آپ کے ہیں

آپ للہ علاج غم دوراں نہ کریں

غم دوراں سے کہیں بڑھ کے ستم آپ کے ہیں

عرق آلود جبیں نیچی نظر کانپتے لب

اسی عالم میں پھر اک بار کہ ہم آپ کے ہیں