یہ کفر ہم نے کیا عمر بھر خدا جانے

Iftikhar Ahamad Siddiqi

یہ کفر ہم نے کیا عمر بھر خدا جانے

خدا کی ذات کو انساں سے ماورا جانے

قفس میں آئے نشیمن جلا چمن چھوٹا

اب اور کتنی بلائیں رہیں خدا جانے

بنا لیا ہے اگر معصیت کو میں نے مزاج

تو اس زمین پہ ہم بوجھ ہیں خدا جانے

فریب نفس کا کتنا حسین پہلو ہے

ہم اپنے درد محبت کو لا دوا جانے

نگاہ مست میں روح شراب ہوتی ہے

نظر سے جس نے نہ پی ہو کبھی وہ کیا جانے

زبان چپ ہے نگاہیں کلام کرتی ہیں

سکوت میں ہو تکلم تو کوئی کیا جانے

ہزار بار ہمیں وقت نے بتایا ہے

برا وہ خود ہے زمانے کو جو برا جانے

خرد کی آخری حد ہے جنوں کا پہلا قدم

یہ ابتدا ہے تو پھر انتہا خدا جانے

یہ کائنات ہمارے لیے بنائی گئی

خدائی کرنے ہم آئے یہاں خدا جانے