ترے حضور نہ خالی کسی کا جام رہا
Iftikhar Ahamad Siddiqiترے حضور نہ خالی کسی کا جام رہا
وہ خوش نصیب تو میں ہوں کہ تشنہ کام رہا
الم نصیب رہا اور تلخ کام رہا
مگر فریب محبت کا احترام رہا
شراب عشق سے لبریز جس کا جام رہا
وہ زندگی کی تگ و دو میں شاد کام رہا
مذاق دید سر طور تشنہ کام رہا
تمام ہو کے یہ افسانہ ناتمام رہا
نہ صبح نور کا جلوہ نہ کیف شام رہا
بلا نصیب چمن میں بھی زیر دام رہا
مجھے نہ دیجئے طعنے کہ سخت جان ہوں میں
یہ زندگی ہے کہ جینا مجھے حرام رہا
نہ راس آئے گی اے باغباں بہار اسے
اگر چمن کا یہی رخ یہی نظام رہا
سمجھ سکے گا مرے ظرف بادہ خواری کو
جو میکدے میں کبھی شیخ کا قیام رہا
خود اپنے دل میں تجلی کو پا لیا ہم نے
کلیم طور سے افضل تو یہ مقام رہا
وفا شعار نہیں ہم مگر قصور معاف
وہ کون ہے سر فہرست جس کا نام رہا