کوئی رسوا کوئی سودائی ہے

عزیز حیدرآبادی

کوئی رسوا کوئی سودائی ہے

اک جہاں آپ کا شیدائی ہے

صحبت غیر سے بچئے بچئے

دیکھیے دیکھیے رسوائی ہے

ہر ادا میں ہے حیات جاوید

ہر اشارہ میں مسیحائی ہے