Poetry
Poet
Meter
- کب زلف دوتا ان کی پریشان نہیں ہےکب وحشت دل کا مری سامان نہیں ہےBadr Jamali
- وہی جو منزل شمس و قمر میں رہتا ہےوہ حسن بن کے ہماری نظر میں رہتا ہےBadr Jamali
- ہجر میں جو اشک چشم تر گرااک پیام حال دل بن کر گراBadr Jamali
- ہر غم پہ آج کل ہے خوشی کا گماں مجھےلے آئی یاد یار کہاں سے کہاں مجھےBadr Jamali
- ہم غم زمانہ سے یوں نظر ملائیں گےمشکلیں پڑیں گی جب اور مسکرائیں گےBadr Jamali
- ہم نے آپ کے غم کو ہم سفر بنایا ہےیعنی زندگانی کو معتبر بنایا ہےBadr Jamali
- ہم نے دیکھے زندگی میں چند ایسے سرپھرےدشمنوں میں جو پیام دوستی لے کر پھرےBadr Jamali
- آہ میں بے قرار کس کا ہوںکشتۂ انتظار کس کا ہوںمیر سوز
- اپنے نالے میں گر اثر ہوتاقطرۂ اشک بھی گہر ہوتامیر سوز
- اگر میں جانتا ہے عشق میں دھڑکا جدائی کاتو جیتے جی نہ لیتا نام ہرگز آشنائی کامیر سوز
- پاس رہ کر دیکھنا تیرا بڑا ارمان ہےمجھ کو سب مشکل ہے پیارے تجھ کو سب آسان ہےمیر سوز
- ترا ہم نے جس کو طلب گار دیکھااسے اپنی ہستی سے بے زار دیکھامیر سوز
- تو ہم سے جو ہم شراب ہوگابہتوں کا جگر کباب ہوگامیر سوز
- جتنا کوئی تجھ سے یار ہوگااتنا ہی خراب و خوار ہوگامیر سوز
- جس کا تجھ سا حبیب ہووے گاکون اس کا رقیب ہووے گامیر سوز
- جو ہم سے تو ملا کرے گابندہ تجھ کو دعا کرے گامیر سوز
- حسن کی گر زکوٰۃ پاؤں میںتو بھکاری ترا کہاؤں میںمیر سوز
- عشاق تیرے سب تھے پر زار تھا سو میں تھاجگ کے خرابہ اندر اک خوار تھا سو میں تھامیر سوز
- غمزۂ چشم شرمسار کہاںسر تو حاضر ہے تیغ یار کہاںمیر سوز
- کعبے ہی کا اب قصد یہ گمراہ کرے گاجو تم سے بتاں ہوگا سو اللہ کرے گامیر سوز
- محبت منہ پہ کرنا اور دل میں بے وفائی ہےیہ آئینہ یہاں کہتا ہے کیسی آشنائی ہےمیر سوز
- ناصحو دل کس کنے ہے کس کو سمجھاتے ہو تمکیوں دوانے ہو گئے ہو جان کیوں کھاتے ہو تممیر سوز
- ہمیں کون پوچھے ہے صاحبو نہ سوال میں نہ جواب میںنہ تو کوئی آدمی جانے ہے نہ حساب میں نہ کتاب میںمیر سوز
- یہ تیرا عشق کب کا آشنا تھاکہاں کا جان کو میری دھرا تھامیر سوز
- آخر دل کی پرانی لگن کر کے ہی رہے گی فقیر ہمیںہر رت آتے جاتے پائے ایک ہی شے کا اسیر ہمیںمختار صدیقی
- بستیاں کیسے نہ ممنون ہوں دیوانوں کیوسعتیں ان میں وہی لائے ہیں ویرانوں کیمختار صدیقی
- پھر بہار آئی ہے پھر جوش میں سودا ہوگازخم دیرینہ سے پھر خون ٹپکتا ہوگامختار صدیقی
- ترے جلوے تیرے حجاب کو میری حیرتوں سے نمو ملیکہ تھا شب سے دن کبھی تیرہ تر کبھی شب ہی آئنہ رو ملیمختار صدیقی
- تھی تو سہی پر آج سے پہلے ایسی حقیر فقیر نہ تھیدل کی شرافت ذہن کی جودت اتنی بڑی تقصیر نہ تھیمختار صدیقی
- رات کے بعد وہ صبح کہاں ہے دن کے بعد وہ شام کہاںجو آشفتہ سری ہے مقدر اس میں قید مقام کہاںمختار صدیقی
- شوخ تھے رنگ ہر اک دور میں افسانوں کےدل دھڑکتے ہی رہے آس میں انسانوں کےمختار صدیقی
- کی شب حشر مری شام جوانی تم نےچھیڑی کس دور کی کس وقت کہانی تم نےمختار صدیقی
- موت کو زیست ترستی ہے یہاںموت ہی کون سی سستی ہے یہاںمختار صدیقی
- نور سحر کہاں ہے اگر شام غم گئیکب التفات تھا کہ جو خوئے ستم گئیمختار صدیقی
- وہی اک پکار وہی فغاں مری مہر دیدہ و لب میں ہےہے کراہ جو شب و روز کی جو فضا کے شور و شغب میں ہےمختار صدیقی
- رسوائیمختار صدیقی
- رات کی باتمختار صدیقی
- دھیان کی موج کو پھر آئنہ سیما کر لیںکچھ تجلی کی حضوری کا بھی یارا کر لیںمختار صدیقی
- پرچھائیاںمختار صدیقی
- قریۂ ویراںمختار صدیقی
- کھنڈرمختار صدیقی
- آئینہ اک خیال کا ہوں شیشہ گر نہیںمیں وہ مکاں ہوں جس کا کوئی بام و در نہیںNaeem Saba
- اب میرے لئے آنکھ تیری نم ہے مجھے کیااب ترک مراسم کا تجھے غم ہے مجھے کیاNaeem Saba
- حجاب حسن میں یا حسن بے حجاب میں ہےیہ روشنی کا سفر عکس ماہتاب میں ہےNaeem Saba
- رخت سفر کا میں نے ارادہ نہیں کیاروشن چراغ منزل جادہ نہیں کیاNaeem Saba
- فراق یار میں ایسی بھی ایک شب آئیچراغ جل گیا آنکھوں میں نیند جب آئیNaeem Saba
- کبھی مسجد کبھی مندر سے اٹھااک سوالی تھا ترے در سے اٹھاNaeem Saba
- کف غبار میں ملبوس میرا پیکر تھایہ سانحہ تو ازل سے مرا مقدر تھاNaeem Saba
- گلہ ہے اپنے مقدر کی بے حسی سے ہمیںاور اس سے بڑھ کے شکایت ہے زندگی سے ہمیںNaeem Saba
- مرے قریب وہ آیا تھا روبرو نہ ہوانظر ملا کے بھی مائل بہ گفتگو نہ ہواNaeem Saba