Poetry

Poet
Meter
  1. کب زلف دوتا ان کی پریشان نہیں ہےکب وحشت دل کا مری سامان نہیں ہےBadr Jamali
  2. وہی جو منزل‌ شمس و قمر میں رہتا ہےوہ حسن بن کے ہماری نظر میں رہتا ہےBadr Jamali
  3. ہجر میں جو اشک چشم تر گرااک پیام حال دل بن کر گراBadr Jamali
  4. ہر غم پہ آج کل ہے خوشی کا گماں مجھےلے آئی یاد یار کہاں سے کہاں مجھےBadr Jamali
  5. ہم غم زمانہ سے یوں نظر ملائیں گےمشکلیں پڑیں گی جب اور مسکرائیں گےBadr Jamali
  6. ہم نے آپ کے غم کو ہم سفر بنایا ہےیعنی زندگانی کو معتبر بنایا ہےBadr Jamali
  7. ہم نے دیکھے زندگی میں چند ایسے سرپھرےدشمنوں میں جو پیام دوستی لے کر پھرےBadr Jamali
  8. آہ میں بے قرار کس کا ہوںکشتۂ انتظار کس کا ہوںمیر سوز
  9. اپنے نالے میں گر اثر ہوتاقطرۂ اشک بھی گہر ہوتامیر سوز
  10. اگر میں جانتا ہے عشق میں دھڑکا جدائی کاتو جیتے جی نہ لیتا نام ہرگز آشنائی کامیر سوز
  11. پاس رہ کر دیکھنا تیرا بڑا ارمان ہےمجھ کو سب مشکل ہے پیارے تجھ کو سب آسان ہےمیر سوز
  12. ترا ہم نے جس کو طلب گار دیکھااسے اپنی ہستی سے بے زار دیکھامیر سوز
  13. تو ہم سے جو ہم شراب ہوگابہتوں کا جگر کباب ہوگامیر سوز
  14. جتنا کوئی تجھ سے یار ہوگااتنا ہی خراب و خوار ہوگامیر سوز
  15. جس کا تجھ سا حبیب ہووے گاکون اس کا رقیب ہووے گامیر سوز
  16. جو ہم سے تو ملا کرے گابندہ تجھ کو دعا کرے گامیر سوز
  17. حسن کی گر زکوٰۃ پاؤں میںتو بھکاری ترا کہاؤں میںمیر سوز
  18. عشاق تیرے سب تھے پر زار تھا سو میں تھاجگ کے خرابہ اندر اک خوار تھا سو میں تھامیر سوز
  19. غمزۂ چشم شرمسار کہاںسر تو حاضر ہے تیغ یار کہاںمیر سوز
  20. کعبے ہی کا اب قصد یہ گمراہ کرے گاجو تم سے بتاں ہوگا سو اللہ کرے گامیر سوز
  21. محبت منہ پہ کرنا اور دل میں بے وفائی ہےیہ آئینہ یہاں کہتا ہے کیسی آشنائی ہےمیر سوز
  22. ناصحو دل کس کنے ہے کس کو سمجھاتے ہو تمکیوں دوانے ہو گئے ہو جان کیوں کھاتے ہو تممیر سوز
  23. ہمیں کون پوچھے ہے صاحبو نہ سوال میں نہ جواب میںنہ تو کوئی آدمی جانے ہے نہ حساب میں نہ کتاب میںمیر سوز
  24. یہ تیرا عشق کب کا آشنا تھاکہاں کا جان کو میری دھرا تھامیر سوز
  25. آخر دل کی پرانی لگن کر کے ہی رہے گی فقیر ہمیںہر رت آتے جاتے پائے ایک ہی شے کا اسیر ہمیںمختار صدیقی
  26. بستیاں کیسے نہ ممنون ہوں دیوانوں کیوسعتیں ان میں وہی لائے ہیں ویرانوں کیمختار صدیقی
  27. پھر بہار آئی ہے پھر جوش میں سودا ہوگازخم دیرینہ سے پھر خون ٹپکتا ہوگامختار صدیقی
  28. ترے جلوے تیرے حجاب کو میری حیرتوں سے نمو ملیکہ تھا شب سے دن کبھی تیرہ تر کبھی شب ہی آئنہ رو ملیمختار صدیقی
  29. تھی تو سہی پر آج سے پہلے ایسی حقیر فقیر نہ تھیدل کی شرافت ذہن کی جودت اتنی بڑی تقصیر نہ تھیمختار صدیقی
  30. رات کے بعد وہ صبح کہاں ہے دن کے بعد وہ شام کہاںجو آشفتہ سری ہے مقدر اس میں قید مقام کہاںمختار صدیقی
  31. شوخ تھے رنگ ہر اک دور میں افسانوں کےدل دھڑکتے ہی رہے آس میں انسانوں کےمختار صدیقی
  32. کی شب حشر مری شام جوانی تم نےچھیڑی کس دور کی کس وقت کہانی تم نےمختار صدیقی
  33. موت کو زیست ترستی ہے یہاںموت ہی کون سی سستی ہے یہاںمختار صدیقی
  34. نور سحر کہاں ہے اگر شام غم گئیکب التفات تھا کہ جو خوئے ستم گئیمختار صدیقی
  35. وہی اک پکار وہی فغاں مری مہر دیدہ و لب میں ہےہے کراہ جو شب و روز کی جو فضا کے شور و شغب میں ہےمختار صدیقی
  36. رسوائیمختار صدیقی
  37. رات کی باتمختار صدیقی
  38. دھیان کی موج کو پھر آئنہ سیما کر لیںکچھ تجلی کی حضوری کا بھی یارا کر لیںمختار صدیقی
  39. پرچھائیاںمختار صدیقی
  40. قریۂ ویراںمختار صدیقی
  41. کھنڈرمختار صدیقی
  42. آئینہ اک خیال کا ہوں شیشہ گر نہیںمیں وہ مکاں ہوں جس کا کوئی بام و در نہیںNaeem Saba
  43. اب میرے لئے آنکھ تیری نم ہے مجھے کیااب ترک مراسم کا تجھے غم ہے مجھے کیاNaeem Saba
  44. حجاب حسن میں یا حسن بے حجاب میں ہےیہ روشنی کا سفر عکس ماہتاب میں ہےNaeem Saba
  45. رخت سفر کا میں نے ارادہ نہیں کیاروشن چراغ منزل جادہ نہیں کیاNaeem Saba
  46. فراق یار میں ایسی بھی ایک شب آئیچراغ جل گیا آنکھوں میں نیند جب آئیNaeem Saba
  47. کبھی مسجد کبھی مندر سے اٹھااک سوالی تھا ترے در سے اٹھاNaeem Saba
  48. کف غبار میں ملبوس میرا پیکر تھایہ سانحہ تو ازل سے مرا مقدر تھاNaeem Saba
  49. گلہ ہے اپنے مقدر کی بے حسی سے ہمیںاور اس سے بڑھ کے شکایت ہے زندگی سے ہمیںNaeem Saba
  50. مرے قریب وہ آیا تھا روبرو نہ ہوانظر ملا کے بھی مائل بہ گفتگو نہ ہواNaeem Saba