شکوۂ بخت ہے فضول گردش روزگار کیا
Iftikhar Ahamad Siddiqiشکوۂ بخت ہے فضول گردش روزگار کیا
وقت کی تو بساط الٹ بیٹھا ہے سوگوار کیا
پرسش غم سے آ گیا دل کو مرے قرار کیا
مجھ کو سکون مل گیا اے میرے غم گسار کیا
دل میں ہو سوز عشق اگر پھر غم روزگار کیا
دھوپ بھی پھر تو چھاؤں ہے کیسی خزاں بہار کیا
ہجر کی رات کٹ گئی درد بھی دل کا تھم گیا
تیری روش بدل گئی گردش روزگار کیا
غم ہے ہماری زندگی درد ہے حسن زندگی
اب ہمیں ان سے کیا گلہ اب ہمیں غم سے عار کیا
طور پہ تم تھے جلوہ گر ہوش میں کب کلیم تھے
دیکھنے والا جب نہ ہو حسن کی پھر بہار کیا
سن کے رموز عقل و ہوش اہل خرد پکار اٹھے
اہل جنوں کو مل گیا عقل پہ اختیار کیا