شراب حسن سے کچھ ایسے ہم ہوئے مخمور
Iftikhar Ahamad Siddiqiشراب حسن سے کچھ ایسے ہم ہوئے مخمور
کہ ہوش تک نہ تھا باقی کہاں کا حسن شعور
وفا کا ایک ہی آئین ایک ہی دستور
دل آدمی کا رہے سوز عشق سے معمور
کلیم یوں بھی سناؤ ہمیں فسانۂ طور
جو تم میں تھا وہ نظر آیا تم کو کتنی دور
جو ہم نہیں ہیں تو بے کار ہے خدا کا ظہور
نہ اس میں کوئی تعلی نا اس میں کوئی غرور
کشاں کشاں یہاں لے آیا میرا حسن شعور
نہ میری اس میں خطا ہے نہ میرا اس میں قصور
ترا کرم کہ مجھے دے دیا دل رنجور
نہیں تو جینے نہ دیتا مجھے ہوس کا شعور
کشاکش غم دوراں سے ہے وہ کوسوں دور
کہ جس کو غم پہ تبسم کا آ گیا ہے شعور
ہمارے سجدے خدا تو تمہیں بنا نہ سکے
ہمارا کفر زمانے میں ہو گیا مشہور
مرے خدا مری حق گوئی کے وقار کی خیر
وہ روز مجھ کو سناتے ہیں قصۂ منصور
مرے گناہ کی توقیر اے تری قدرت
کہ اس سیاہی نے بخشا ہے کائنات کو نور
تڑپ ہی دل کی لگی جب تو لطف زیست کہاں
علاج درد محبت ہمیں نہیں منظور
ہزار پردے ہوں لیکن وہ رہ نہیں سکتے
مری نگاہ سے اوجھل مرے خیال سے دور