کھلا یہ آدم و ابلیس کے فسانے سے
Iftikhar Ahamad Siddiqiکھلا یہ آدم و ابلیس کے فسانے سے
کہ یہ جہان بنا ہے فریب کھانے سے
بڑی عجیب تھیں خوش فہمیاں زمانے سے
کہ خوش ہوئے تھے نشیمن جلائے جانے سے
اسیر ہو کے بھی یہ راز آج تک نہ کھلا
قفس کو کون سی نسبت ہے آشیانے سے
تمام مقصد تخلیق خاک ہو جاتا
گریز کرتے اگر ہم فریب کھانے سے
ہم اہل ذوق ہیں ہم کو نہ ٹوک اے ناصح
کہ اور بھٹکیں گے ہم راستہ بتانے سے
ذرا سی بات کہ ہم نے فریب کھایا تھا
فسانہ بن گیا یہ حاشیہ چڑھانے سے
جو اپنے نفس کی عزت کا پاس کرتے ہیں
شکست وہ نہیں کھاتے کبھی زمانے سے