ایک ہی نغمہ کبھی سوز کبھی ساز میں ہے

Iftikhar Ahamad Siddiqi

ایک ہی نغمہ کبھی سوز کبھی ساز میں ہے

ایسا اعجاز فقط وقت کی آواز میں ہے

عاشقی راز میں پہلے تھی نہ اب راز میں ہے

بازگشت اس کی تو ہر دور کی آواز میں ہے

جو ازل میں تھا وہی نغمہ یہاں ساز میں ہے

صرف یہ فرق ہے اب دور کی آواز میں ہے

اجنبیت ترے لہجے تری آواز میں ہے

آج تو مجھ سے مخاطب یہ کس انداز میں ہے

اتنا احساس ہے جو کچھ ہوں تجھی سے ہوں مگر

خود میں کیا ہوں یہ حقیقت تو ابھی راز میں ہے

پھیلنا بھی مجھے آتا ہے سمٹنا بھی مجھے

میرے انجام کی تکمیل بھی آغاز میں ہے

یوں تو ہر ایک ادا حسن کی دل کش ہے مگر

حسن کی روح نگاہ غلط انداز میں ہے