ہم نے آنکھ سے دیکھا کتنے سورج نکلے ڈوب گئے
Ejaz Obaidہم نے آنکھ سے دیکھا کتنے سورج نکلے ڈوب گئے
لیکن تاروں سے پوچھو کب نکلے چمکے ڈوب گئے
دو سائے پہلے آکاش تلے ساحل پر بیٹھے تھے
لہروں نے لپٹانا چاہا اور بے چارے ڈوب گئے
پیڑوں پر جو نام لکھے تھے وہ تو اب بھی باقی ہیں
لیکن جتنے بھی تالاب میں پتھر پھینکے ڈوب گئے
اونچے گھر آکاش چھپا کر اپنے آپ پہ نازاں ہیں
چاروں اور کھلے آکاش کے سورج پیچھے ڈوب گئے
اب تو ہمیں اک شعر کا ہونا بھی نا ممکن لگتا ہے
اب تو دن کی نیلی جھیل میں رات کے تارے ڈوب گئے