عشق میں سوز نہ ہو حسن میں تسخیر نہ ہو
Iftikhar Ahamad Siddiqiعشق میں سوز نہ ہو حسن میں تسخیر نہ ہو
پھر تو تخریب ہی دنیا میں ہو تعمیر نہ ہو
تیری انسان یہ عظمت نہ ہو توقیر نہ ہو
معصیت کی جو ترے پاؤں میں زنجیر نہ ہو
شکوۂ کاتب تقدیر بجا ہے لیکن
دست تدبیر میں جب دامن تقدیر نہ ہو
دل کی آواز اثر سے نہیں ہوتی خالی
ہے کمی تجھ میں اگر بات میں تاثیر نہ ہو
تو بتا تیرے سوا اور میں کس سے مانگوں
اختیار اتنا کہ سرزد کوئی تقصیر نہ ہو
عرق آلود جبیں نیچی نظر لب پہ ہنسی
جس کو وہ دیکھ رہے ہیں مری تصویر نہ ہو