پہلے میرے پاؤں میں زنجیر عصیاں دیکھیے

Iftikhar Ahamad Siddiqi

پہلے میرے پاؤں میں زنجیر عصیاں دیکھیے

پھر تماشائے طلسم بزم امکاں دیکھیے

خون دل خون جگر کا نقش عریاں دیکھیے

اپنے منہ سے کیا کہوں رنگ گلستاں دیکھیے

اور سب کچھ ہے یہاں انسانیت مفقود ہے

اب تصور میں فقط انساں کو انساں دیکھیے

طور ہو یا عرش دونوں ہی دل انساں میں ہیں

اس کو اپنی ذات میں نزد رگ جاں دیکھیے

چاند پر ڈالے کمندیں اور خود سے بے خبر

دیکھیے کوتاہیٔ ادراک انساں دیکھیے

آگ میں گر جائیے محکم اگر ایمان ہے

اور پھر شعلوں میں انداز گلستاں دیکھیے

بے کسی میں ترجمان حال دل ہوتا ہے غم

میری خاموشی ہے افسانے کا عنواں دیکھیے