معاف اے شان کبریائی یہ عرض میری گلہ نہیں ہے

Iftikhar Ahamad Siddiqi

معاف اے شان کبریائی یہ عرض میری گلہ نہیں ہے

کہ تیرے در کے سوا مرا سر کسی کے در پر جھکا نہیں ہے

حسین تھیں زندگی کی راہیں تو عقل و دانش کے گیت گائے

جو آئیں دشواریاں تو چیخے خدا نہیں ہے خدا نہیں ہے

غلط تھا ارمان راحت دل فضول تھی کوشش مسرت

سکون مایوس ہو کے پایا کہ اب کوئی آسرا نہیں ہے

ہمارا ایماں حصول دولت بنایا مکر و دغا کو فطرت

زباں سے اقرار ہے خدا کا گمان یہ ہے خدا نہیں ہے

نماز تو ہے فریضۂ رب نماز پڑھ کر دعا نہ مانگو

دعا خدا سے مطالبہ ہے مطالبہ التجا نہیں ہے

ہر ایک نعمت ہمیں میسر تمام دنیا ہماری دنیا

ہمیں ملا درد آشنا دل ہمارے قبضے میں کیا نہیں ہے

توازن نور و نار میں ہے بقائے تنظیم نوع انساں

وہ خود کریں گے خدا کو پیدا جو کہہ رہے ہیں خدا نہیں ہے