Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. اقرار کسی دن ہے تو انکار کسی دنہو جائے گی اب آپ سے تکرار کسی دنBadr Wasti
  2. برا ہو کر بھی وہ اچھا بہت ہےوہ جیسا ہے نہیں بنتا بہت ہےBadr Wasti
  3. پھل درختوں سے گرے تھے آندھیوں میں تھال بھرمیرے حصے میں مگر آئے نہیں رومال بھرBadr Wasti
  4. تمہارے دل میں جو غم بسا ہے تو میں کہاں ہوںیہ میں نہیں کوئی دوسرا ہے تو میں کہاں ہوںBadr Wasti
  5. چراغوں میں اندھیرا ہے اندھیرے میں اجالے ہیںہمارے شہر میں کالی ہوا نے پر نکالے ہیںBadr Wasti
  6. دھانی سرمئی سبز گلابی جیسے ماں کا آنچل شامکیسے کیسے رنگ دکھائے روز لبالب چھاگل شامBadr Wasti
  7. ذہن اور دل میں جو رہتی ہے چبھن کھل جائےآئے کاغذ پہ تو سلمائے سخن کھل جائےBadr Wasti
  8. فکر اہل ہنر پہ بیٹھی ہےشاعری سیم و زر پہ بیٹھی ہےBadr Wasti
  9. کس کو فرصت کون پڑھے گا چہرے جیسا سچا سچروز عدالت میں چلتا ہے کھوٹا سکہ جھوٹا سچBadr Wasti
  10. وہ جب دے گا جو کچھ دے گا دے گا اپنے والوں کوویسے بھی کچھ ملتا کب ہے دھوپ میں تپنے والوں کوBadr Wasti
  11. خبر شاکی ہے تم مجھ کوفقط قصہ سمجھ کر ہی نظر انداز کرتے ہوBadr Wasti
  12. میں بھی کچھ خواب سر شبر تمنا لے کرسر میں عرفان غم ذات کا سودا لے کرBadr Wasti
  13. آج کل تو سب کے سب ٹی وی کے دیوانے ہوئےورنہ بچے تو لیا کرتے تھے پاگل کے مزےBadr Wasti
  14. پھل دار درختوں نے رجھایا تو مجھے بھیآزاد پرندوں کے لیے شاخ و ثمر کیاBadr Wasti
  15. عذاب ہوتی ہیں اکثر شباب کی گھڑیاںگلاب اپنی ہی خوشبو سے ڈرنے لگتے ہیںBadr Wasti
  16. قاتل کی ساری سازشیں ناکام ہی رہیںچہرہ کچھ اور کھل اٹھا زہراب گر پیاBadr Wasti
  17. لہو کا آخری قطرہ نچوڑنے پر بھیتقاضے رینگتے رہتے ہیں رنگ و بو کے لئےBadr Wasti
  18. ہر شخص کو گمان کہ منزل نہیں ہے دوریہ تو بتائیے کہ پتہ کس کے پاس ہےBadr Wasti
  19. ابھی تک تلخیٔ مے میں کمی معلوم ہوتی ہےلبوں پر اک بلا کی تشنگی معلوم ہوتی ہےBalbir Rathi
  20. احساسات کی بستی میں جب ہر جانب اک سناٹا تھامیں آوازوں کے جنگل میں تب جانے کیا ڈھونڈ رہا تھاBalbir Rathi
  21. ایسے گم سم وہ سوچتے کیا تھےجانے یاروں کے فیصلے کیا تھےBalbir Rathi
  22. پھر فضا میں کوئی زہریلا دھواں بھر جائے گاپھر کسی دن اپنے اندر کچھ نہ کچھ مر جائے گاBalbir Rathi
  23. چاہا جن کو بھی زندگی کی طرحوہ ملے مجھ کو اجنبی کی طرحBalbir Rathi
  24. حسرتیں خاموش ہیں اجڑے مزاروں کی طرحولولے روشن ہیں کیوں پھر بھی شراروں کی طرحBalbir Rathi
  25. خول سا اوڑھے ہوئے لگتے ہیں لوگبات کیا ہے اتنے چپ کیسے ہیں لوگBalbir Rathi
  26. ذرہ ذرہ پگھلنے والا تھاسارا منظر بدلنے والا تھاBalbir Rathi
  27. رات کیا ڈھل گئی سمندر میںگھل گئی تیرگی سمندر میںBalbir Rathi
  28. راہرو کو دور سے منزل سمجھ بیٹھے تھے ہمبحر غم میں موج کو ساحل سمجھ بیٹھے تھے ہمBalbir Rathi
  29. راہ میں یوں تو مرحلے ہیں بہتہم سفر پھر بھی آ گئے ہیں بہتBalbir Rathi
  30. زندگی اک جال میں الجھی ہوئی ہے آج بھیبے بسی پہلے جو تھی وہ بے بسی ہے آج بھیBalbir Rathi
  31. شہر بدلا ہوا سا لگتا ہےہر کوئی اوپرا سا لگتا ہےBalbir Rathi
  32. عطا کر دی کسی نے وہ بلا کی تشنگی مجھ کونہ راس آئے گی شاید زندگی بھر زندگی مجھ کوBalbir Rathi
  33. کسی بھی خواب میں جب دل کشی باقی نہیں رہتیتو پھر جذبات میں وہ بات ہی باقی نہیں رہتیBalbir Rathi
  34. گو پرانی ہو چکی وہ ہوش میں آنے کی باتلوگ پھر بھی کر رہے ہیں مجھ کو سمجھانے کی باتBalbir Rathi
  35. محبت سے اگر بیزار ہو جاتے تو اچھا تھاہم اس دنیا میں دنیا دار ہو جاتے تو اچھا تھاBalbir Rathi
  36. محبت سے جنوں کی داستاں تک آ گیا ہوں میںکسی کے عشق میں دیکھو کہاں تک آ گیا ہوں میںBalbir Rathi
  37. ابھی تمام آئنوں میں ذرہ ذرہ آب ہےیہ کس نے تم سے کہہ دیا کہ زندگی خراب ہےEjaz Obaid
  38. اس نے دیکھا تھا عجب ایک تماشا مجھ میںمیں جو رویا تو کوئی ہنستا رہا تھا مجھ میںEjaz Obaid
  39. ایسے ہی دن تھے کچھ ایسی شام تھیوہ مگر کچھ اور ہنستی شام تھیEjaz Obaid
  40. تھا وہ جنگل کہ نگر یاد نہیںکیا تھی وہ راہ گزر یاد نہیںEjaz Obaid
  41. تھیں اک سکوت سے ظاہر محبتیں اپنیاب آنسوؤں نے بھی بخشیں عنایتیں اپنیEjaz Obaid
  42. تیرے دامن کی تھی یا مست ہوا کس کی تھیساتھ میرے چلی آئی وہ صدا کس کی تھیEjaz Obaid
  43. دکھاتا کیا ہے یہ ٹوٹی ہوئی کمان مجھےترا شکار ہوں اچھی طرح سے جان مجھےEjaz Obaid
  44. دوسروں کی آنکھ لے کر بھی پشیمانی ہوئیاب بھی یہ دنیا ہمیں لگتی ہے پہچانی ہوئیEjaz Obaid
  45. دھند کا آنکھوں پر ہوگا پردا اک دنہو جائیں گے ہم سب بے چہرا اک دنEjaz Obaid
  46. غم بھی اتنا نہیں کہ تم سے کہیںاور چارہ نہیں کہ تم سے کہیںEjaz Obaid
  47. کس سے ملنے جاؤ اب کس سے ملاقاتیں کروتم اکیلے ہو دل تنہا سے ہی باتیں کروEjaz Obaid
  48. کوئی ہو چہرہ شناسا دکھائی دیتا ہےہر اک میں ایک ہی مکھڑا دکھائی دیتا ہےEjaz Obaid
  49. نئے سفر میں جو پچھلے سفر کے ساتھی تھےپھر آئے یاد کہ اس رہ گزر کے ساتھی تھےEjaz Obaid
  50. ہتھیلیوں میں لکیروں کا جال تھا کتنامرے نصیب میں میرا زوال تھا کتناEjaz Obaid