Poetry
Poet
Meter
- اقرار کسی دن ہے تو انکار کسی دنہو جائے گی اب آپ سے تکرار کسی دنBadr Wasti
- برا ہو کر بھی وہ اچھا بہت ہےوہ جیسا ہے نہیں بنتا بہت ہےBadr Wasti
- پھل درختوں سے گرے تھے آندھیوں میں تھال بھرمیرے حصے میں مگر آئے نہیں رومال بھرBadr Wasti
- تمہارے دل میں جو غم بسا ہے تو میں کہاں ہوںیہ میں نہیں کوئی دوسرا ہے تو میں کہاں ہوںBadr Wasti
- چراغوں میں اندھیرا ہے اندھیرے میں اجالے ہیںہمارے شہر میں کالی ہوا نے پر نکالے ہیںBadr Wasti
- دھانی سرمئی سبز گلابی جیسے ماں کا آنچل شامکیسے کیسے رنگ دکھائے روز لبالب چھاگل شامBadr Wasti
- ذہن اور دل میں جو رہتی ہے چبھن کھل جائےآئے کاغذ پہ تو سلمائے سخن کھل جائےBadr Wasti
- فکر اہل ہنر پہ بیٹھی ہےشاعری سیم و زر پہ بیٹھی ہےBadr Wasti
- کس کو فرصت کون پڑھے گا چہرے جیسا سچا سچروز عدالت میں چلتا ہے کھوٹا سکہ جھوٹا سچBadr Wasti
- وہ جب دے گا جو کچھ دے گا دے گا اپنے والوں کوویسے بھی کچھ ملتا کب ہے دھوپ میں تپنے والوں کوBadr Wasti
- خبر شاکی ہے تم مجھ کوفقط قصہ سمجھ کر ہی نظر انداز کرتے ہوBadr Wasti
- میں بھی کچھ خواب سر شبر تمنا لے کرسر میں عرفان غم ذات کا سودا لے کرBadr Wasti
- آج کل تو سب کے سب ٹی وی کے دیوانے ہوئےورنہ بچے تو لیا کرتے تھے پاگل کے مزےBadr Wasti
- پھل دار درختوں نے رجھایا تو مجھے بھیآزاد پرندوں کے لیے شاخ و ثمر کیاBadr Wasti
- عذاب ہوتی ہیں اکثر شباب کی گھڑیاںگلاب اپنی ہی خوشبو سے ڈرنے لگتے ہیںBadr Wasti
- قاتل کی ساری سازشیں ناکام ہی رہیںچہرہ کچھ اور کھل اٹھا زہراب گر پیاBadr Wasti
- لہو کا آخری قطرہ نچوڑنے پر بھیتقاضے رینگتے رہتے ہیں رنگ و بو کے لئےBadr Wasti
- ہر شخص کو گمان کہ منزل نہیں ہے دوریہ تو بتائیے کہ پتہ کس کے پاس ہےBadr Wasti
- ابھی تک تلخیٔ مے میں کمی معلوم ہوتی ہےلبوں پر اک بلا کی تشنگی معلوم ہوتی ہےBalbir Rathi
- احساسات کی بستی میں جب ہر جانب اک سناٹا تھامیں آوازوں کے جنگل میں تب جانے کیا ڈھونڈ رہا تھاBalbir Rathi
- ایسے گم سم وہ سوچتے کیا تھےجانے یاروں کے فیصلے کیا تھےBalbir Rathi
- پھر فضا میں کوئی زہریلا دھواں بھر جائے گاپھر کسی دن اپنے اندر کچھ نہ کچھ مر جائے گاBalbir Rathi
- چاہا جن کو بھی زندگی کی طرحوہ ملے مجھ کو اجنبی کی طرحBalbir Rathi
- حسرتیں خاموش ہیں اجڑے مزاروں کی طرحولولے روشن ہیں کیوں پھر بھی شراروں کی طرحBalbir Rathi
- خول سا اوڑھے ہوئے لگتے ہیں لوگبات کیا ہے اتنے چپ کیسے ہیں لوگBalbir Rathi
- ذرہ ذرہ پگھلنے والا تھاسارا منظر بدلنے والا تھاBalbir Rathi
- رات کیا ڈھل گئی سمندر میںگھل گئی تیرگی سمندر میںBalbir Rathi
- راہرو کو دور سے منزل سمجھ بیٹھے تھے ہمبحر غم میں موج کو ساحل سمجھ بیٹھے تھے ہمBalbir Rathi
- راہ میں یوں تو مرحلے ہیں بہتہم سفر پھر بھی آ گئے ہیں بہتBalbir Rathi
- زندگی اک جال میں الجھی ہوئی ہے آج بھیبے بسی پہلے جو تھی وہ بے بسی ہے آج بھیBalbir Rathi
- شہر بدلا ہوا سا لگتا ہےہر کوئی اوپرا سا لگتا ہےBalbir Rathi
- عطا کر دی کسی نے وہ بلا کی تشنگی مجھ کونہ راس آئے گی شاید زندگی بھر زندگی مجھ کوBalbir Rathi
- کسی بھی خواب میں جب دل کشی باقی نہیں رہتیتو پھر جذبات میں وہ بات ہی باقی نہیں رہتیBalbir Rathi
- گو پرانی ہو چکی وہ ہوش میں آنے کی باتلوگ پھر بھی کر رہے ہیں مجھ کو سمجھانے کی باتBalbir Rathi
- محبت سے اگر بیزار ہو جاتے تو اچھا تھاہم اس دنیا میں دنیا دار ہو جاتے تو اچھا تھاBalbir Rathi
- محبت سے جنوں کی داستاں تک آ گیا ہوں میںکسی کے عشق میں دیکھو کہاں تک آ گیا ہوں میںBalbir Rathi
- ابھی تمام آئنوں میں ذرہ ذرہ آب ہےیہ کس نے تم سے کہہ دیا کہ زندگی خراب ہےEjaz Obaid
- اس نے دیکھا تھا عجب ایک تماشا مجھ میںمیں جو رویا تو کوئی ہنستا رہا تھا مجھ میںEjaz Obaid
- ایسے ہی دن تھے کچھ ایسی شام تھیوہ مگر کچھ اور ہنستی شام تھیEjaz Obaid
- تھا وہ جنگل کہ نگر یاد نہیںکیا تھی وہ راہ گزر یاد نہیںEjaz Obaid
- تھیں اک سکوت سے ظاہر محبتیں اپنیاب آنسوؤں نے بھی بخشیں عنایتیں اپنیEjaz Obaid
- تیرے دامن کی تھی یا مست ہوا کس کی تھیساتھ میرے چلی آئی وہ صدا کس کی تھیEjaz Obaid
- دکھاتا کیا ہے یہ ٹوٹی ہوئی کمان مجھےترا شکار ہوں اچھی طرح سے جان مجھےEjaz Obaid
- دوسروں کی آنکھ لے کر بھی پشیمانی ہوئیاب بھی یہ دنیا ہمیں لگتی ہے پہچانی ہوئیEjaz Obaid
- دھند کا آنکھوں پر ہوگا پردا اک دنہو جائیں گے ہم سب بے چہرا اک دنEjaz Obaid
- غم بھی اتنا نہیں کہ تم سے کہیںاور چارہ نہیں کہ تم سے کہیںEjaz Obaid
- کس سے ملنے جاؤ اب کس سے ملاقاتیں کروتم اکیلے ہو دل تنہا سے ہی باتیں کروEjaz Obaid
- کوئی ہو چہرہ شناسا دکھائی دیتا ہےہر اک میں ایک ہی مکھڑا دکھائی دیتا ہےEjaz Obaid
- نئے سفر میں جو پچھلے سفر کے ساتھی تھےپھر آئے یاد کہ اس رہ گزر کے ساتھی تھےEjaz Obaid
- ہتھیلیوں میں لکیروں کا جال تھا کتنامرے نصیب میں میرا زوال تھا کتناEjaz Obaid