Poetry
Poet
Meter
- نقشہ لیل و نہار کا کھینچا ہےموسم کا خط جدا جدا کھینچا ہےاحمد حسین مائل
- اشک آئے غم شہ سے جو چشم تر میںدل جلنے لگا تڑپ تڑپ کر بر میںاحمد حسین مائل
- افزوں جو شباب دم بدم ہوتا ہےگھٹتی ہے عمر کیا ستم ہوتا ہےاحمد حسین مائل
- اقرار نگر کو گدائی کا ہےدعویٰ افلاس و بے نوائی کا ہےاحمد حسین مائل
- اللہ متاع زندگانی مل جائےپھر عہد شباب کی نشانی مل جائےاحمد حسین مائل
- پیدل نہ مجھے روز شمار ان سے دےمرکب پہ لیے گنہ کا بار آنے دےاحمد حسین مائل
- پیری میں شباب کی نشانی نہ ملیافسوس متاع زندگانی نہ ملیاحمد حسین مائل
- ثابت ہے تن میں بادشاہی دل کیپر کی تری نخوت نے تباہی دل کیاحمد حسین مائل
- کچھ لطف سخن وقت ملاقات نہیںلب پر تعریف دل پہ گر ہات نہیںاحمد حسین مائل
- کہتے ہیں کہ رونق جمالی ہوں میںشہرہ ہے کہ جلوۂ جلالی ہوں میںاحمد حسین مائل
- میں اپنے کفن کا سینے والا نکلاہر سانس میں مر کے جینے والا نکلااحمد حسین مائل
- میں سر پہ گناہوں کا لئے بار آیامیں حشر میں پی کے مست و سرشار آیااحمد حسین مائل
- ہم راہ عدم سے اضطراب آیا ہےمیرے لیے دنیا میں عذاب آیا ہےاحمد حسین مائل
- ہے سوئے فلک نظر تماشا کیا ہےانصاف کرو دونوں میں کون اچھا ہےاحمد حسین مائل
- ہے عرش بھی یک فرش قدم کا تیرےتقدیر نوشتہ ہے ہے قلم کا تیرےاحمد حسین مائل
- یا رب مرے دل میں ہے اجالا تیراآئینے کی ہے بغل میں جلوا تیرااحمد حسین مائل
- یہ مجھ سے نہ پوچھ تو نے کیا کیا دیکھایا رب جو کچھ نظر نے دیکھا دیکھااحمد حسین مائل
- ہو گئے مضطر دیکھتے ہی وہ ہلتی زلفیں پھرتی نظر ہمدیتے ہیں دل اک آفت جاں کو تھامے ہوئے ہاتھوں سے جگر ہماحمد حسین مائل
- آہٹ پہ کان در پہ نظر اس طرح نہ تھیایک ایک پل کی ہم کو خبر اس طرح نہ تھیBashar Nawaz
- بازار زندگی میں جمے کیسے اپنا رنگہیں مشتری کے طور نہ بیوپاریوں کے ڈھنگBashar Nawaz
- بہت تھا خوف جس کا پھر وہی قصا نکل آیامرے دکھ سے کسی آواز کا رشتا نکل آیاBashar Nawaz
- بہ ہر عنواں محبت کو بہار زندگی کہئےقرین مصلحت ہے اس کے ہر غم کو خوشی کہیےBashar Nawaz
- جانے کیا دیکھا تھا میں نے خواب میںپھنس گیا پھر جسم کے گرداب میںBashar Nawaz
- جب چھائی گھٹا لہرائی دھنک اک حسن مکمل یاد آیاان ہاتھوں کی مہندی یاد آئی ان آنکھوں کا کاجل یاد آیاBashar Nawaz
- جب کبھی ہوں گے تو ہم مائل غم ہی ہوں گےایسے دیوانے بھی اس دور میں کم ہی ہوں گےBashar Nawaz
- چپ چاپ سلگتا ہے دیا تم بھی تو دیکھوکس درد کو کہتے ہیں وفا تم بھی تو دیکھوBashar Nawaz
- چھیڑا ذرا صبا نے تو گلنار ہو گئےغنچے بھی مہ جمالوں کے رخسار ہو گئےBashar Nawaz
- دل کے ہر درد نے اشعار میں ڈھلنا چاہااپنا پیراہن بے رنگ بدلنا چاہاBashar Nawaz
- ربط ہر بزم سے ٹوٹے تری محفل کے سوارنجشیں سب کی گوارا ہیں ترے دل کے سواBashar Nawaz
- روز کہاں سے کوئی نیاپن اپنے آپ میں لائیں گےتم بھی تنگ آ جاؤ گے اک دن ہم بھی اکتا جائیں گےBashar Nawaz
- سارے منظر فسوں تماشا ہیںکل گھٹائیں تھیں آج دریا ہیںBashar Nawaz
- عکس ہر روز کسی غم کا پڑا کرتا ہےدل وہ آئینہ کہ چپ چاپ تکا کرتا ہےBashar Nawaz
- کوئی صنم تو ہو کوئی اپنا خدا تو ہواس دشت بے کسی میں کوئی آسرا تو ہوBashar Nawaz
- کیا کیا لوگ خوشی سے اپنی بکنے پر تیار ہوئےایک ہمیں دیوانے نکلے ہم ہی یہاں پر خوار ہوئےBashar Nawaz
- گھٹتی بڑھتی روشنیوں نے مجھے سمجھا نہیںمیں کسی پتھر کسی دیوار کا سایا نہیںBashar Nawaz
- ہر نئی رت میں نیا ہوتا ہے منظر میراایک پیکر میں کہاں قید ہے پیکر میراBashar Nawaz
- یہ حسن ہے جھرنوں میں نہ ہے باد چمن میںجس حسن سے ہے چاند رواں نیل گگن میںBashar Nawaz
- اب کی بار ملو جب مجھ سےپہلی اور بس آخری بارBashar Nawaz
- تمہارے روز و شب سے اب کوئی نسبت نہیں لیکنتمہارا عکس ہر لمحے کے آئینے میں ملتا ہےBashar Nawaz
- کرو گے یاد تو ہر بات یاد آئے گیگزرتے وقت کی ہر موج ٹھہر جائے گیBashar Nawaz
- مجھے خواب اپنا عزیز تھاسو میں نیند سے نہ جگا کبھیBashar Nawaz
- افق تا افق یہ دھندلکے کا عالمیہ حد نظر تکBashar Nawaz
- اور پھر دونوں فانوس سینے کے بجھ جائیں گےاوڑھ لے گی دھواںBashar Nawaz
- ایک رقعہ لکھیںاور یوں لکھیںBashar Nawaz
- پتہ نہیں وہ کون تھاجو میرے ہاتھBashar Nawaz
- تو ایسا کیوں نہیں کہتےکہ یہ سپنے ہی میرے کرب کے ضامن ہیں ان کے ہی سبب سے میںBashar Nawaz
- جب کسی تمتماتے ہوئے جسم کا سرسراتا ہوا پیرہنرس بھرے سنترے کے چمکدار چھلکے کی مانند اترنے لگے گاBashar Nawaz
- سنو تمہارا جرم تمہاری کمزوری ہےاپنے جرم پہBashar Nawaz
- مہر ہونٹوں پہسماعت پہ بٹھا لیں پہرےBashar Nawaz
- میں جیسے درد کا موسمگھٹا بن کر جو بس جاتا ہے آنکھوں میںBashar Nawaz