دل کے ہر درد نے اشعار میں ڈھلنا چاہا

Bashar Nawaz

دل کے ہر درد نے اشعار میں ڈھلنا چاہا

اپنا پیراہن بے رنگ بدلنا چاہا

کوئی انجانی سی طاقت تھی جو آڑے آئی

ورنہ ہم نے تو بہر گام سنبھلنا چاہا

چاہتے تو کسی پتھر کی طرح جی لیتے

ہم نے خود موم کی مانند پگھلنا چاہا

آنکھیں جلنے لگیں تپتے ہوئے بازاروں میں

دل نے جب بھی کسی منظر پہ مچلنا چاہا

صرف ہم ہی نہیں ہر ایک نے جینے کے لیے

اک نہ اک جھوٹے سہارے سے بہلنا چاہا

کون ہے یہ جو سسکتا ہے مرے سینے میں

کون ہے جس نے مرے خون پہ پلنا چاہا