سارے منظر فسوں تماشا ہیں
Bashar Nawazسارے منظر فسوں تماشا ہیں
کل گھٹائیں تھیں آج دریا ہیں
کوئی یادوں سے جوڑ لے ہم کو
ہم بھی اک ٹوٹتا سا رشتہ ہیں
ناؤ جیسے بھنور میں چکرائے
اب بھی آنکھوں میں خواب زندہ ہیں
بے تحاشہ ہواؤں سے پوچھیں
راستے کس سفر کا نوحہ ہیں
دھند اوڑھے نگاہیں کیسی ہیں
سانس لیتے ہوئے کھنڈر کیا ہیں