بہ ہر عنواں محبت کو بہار زندگی کہئے

Bashar Nawaz

بہ ہر عنواں محبت کو بہار زندگی کہئے

قرین مصلحت ہے اس کے ہر غم کو خوشی کہیے

جہاں سازوں کو فرزانہ ہم اہل دل کو دیوانہ

زمانہ تو بہت کہتا رہا اب آپ بھی کہیے

بعنوان دگر پھر ہم سے قائم کر لیا تم نے

وہ اک گہرا تعلق جس کو ترک دوستی کہیے

سمجھ کر سنگ راہ شوق ٹھکراتا ہوں منزل کو

کمال آگہی کہیے اسے یا گمرہی کہیے

شب مہتاب میں اکثر فضاؤں سے برستا ہے

طلسم نغمگی ایسا کہ جس کو خامشی کہیے

میں اکثر سوچتا ہوں تیری بے پایاں نوازش کو

ادائے خاص کہیے کوئی یا بس سادگی کہیے

بھری محفل سے بھی تشنہ ہی لوٹ آئی نظر اپنی

خود آگاہی سمجھ لیجے اسے یا خود سری کہیے