مجھے خواب اپنا عزیز تھا

Bashar Nawaz

مجھے خواب اپنا عزیز تھا

سو میں نیند سے نہ جگا کبھی

مجھے نیند اپنی عزیز ہے

کہ میں سر زمین پہ خواب کی

کوئی پھول ایسا کھلا سکوں

کہ جو مشک بن کے مہک سکے

کوئی دیپ ایسا جلا سکوں

جو ستارہ بن کے دمک سکے

مرا خواب اب بھی ہے نیند میں

مری نیند اب بھی ہے منتظر

کہ میں وہ کرشمہ دکھا سکوں

کہیں پھول کوئی کھلا سکوں

کہیں دیپ کوئی جلا سکوں