جب کسی تمتماتے ہوئے جسم کا سرسراتا ہوا پیرہن

Bashar Nawaz

جب کسی تمتماتے ہوئے جسم کا سرسراتا ہوا پیرہن

رس بھرے سنترے کے چمکدار چھلکے کی مانند اترنے لگے گا

دھندلکے میں سوئے ہوئے نرم بسر کی نیندیں

کسی سوندھی خوشبو کی جھنکار سے جب اچٹ جائیں گی

اور الجھی ہوئی گرم سانسوں کی موجوں پہ میں

بے سہارا بھٹکتی ہوئی ناؤ کی طرح بہنے لگوں گا

یقیں ہے مجھے

تم ہواؤں کی پوشاک پہنے ہوئے

بند کمرے کی جنت میں در آؤگی

اجنبی مسکراتے ہوئے جسم کے ایک ایک نقش میں آپ ہی

آپ ڈھل جاؤ گی

دور افق کے قریں

وہ پرندے فضاؤں میں آہستہ آہستہ تحلیل ہو جائیں گے