کیا کیا لوگ خوشی سے اپنی بکنے پر تیار ہوئے

Bashar Nawaz

کیا کیا لوگ خوشی سے اپنی بکنے پر تیار ہوئے

ایک ہمیں دیوانے نکلے ہم ہی یہاں پر خوار ہوئے

پیار کے بندھن خون کے رشتے ٹوٹ گئے خوابوں کی طرح

جاگتی آنکھیں دیکھ رہی تھیں کیا کیا کاروبار ہوئے

آپ وہ سیانے رستے کے ہر پتھر کو بت مان لیا

ہم وہ پاگل اپنی راہ میں آپ ہی خود دیوار ہوئے

اپنی اپنی جگہ پر دونوں بے بس بھی مسرور بھی ہیں

تم تحریر سنگ ہوئے ہم بھولا ہوا اقرار ہوئے

آنے والی صبح گنے گی رات کے اندھے طوفاں میں

کتنے ساحل ہی پر ڈوبے کتنے بھنور کے پار ہوئے