گھٹتی بڑھتی روشنیوں نے مجھے سمجھا نہیں

Bashar Nawaz

گھٹتی بڑھتی روشنیوں نے مجھے سمجھا نہیں

میں کسی پتھر کسی دیوار کا سایا نہیں

جانے کن رشتوں نے مجھ کو باندھ رکھا ہے کہ میں

مدتوں سے آندھیوں کی زد میں ہوں بکھرا نہیں

زندگی بپھرے ہوئے دریا کی کوئی موج ہے

اک دفعہ دیکھا جو منظر پھر کبھی دیکھا نہیں

ہر طرف بکھری ہوئی ہیں آئنے کی کرچیاں

ریزہ ریزہ عکس ہیں سالم کوئی چہرا نہیں

کہتے کہتے کچھ بدل دیتا ہے کیوں باتوں کا رخ

کیوں خود اپنے آپ کے بھی ساتھ وہ سچا نہیں