اشک آئے غم شہ سے جو چشم تر میں
احمد حسین مائلاشک آئے غم شہ سے جو چشم تر میں
دل جلنے لگا تڑپ تڑپ کر بر میں
مائلؔ یہ ماجرا نہ دیکھا نہ سنا
پانی سے لگی آگ خدا کے گھر میں
اشک آئے غم شہ سے جو چشم تر میں
دل جلنے لگا تڑپ تڑپ کر بر میں
مائلؔ یہ ماجرا نہ دیکھا نہ سنا
پانی سے لگی آگ خدا کے گھر میں