ربط ہر بزم سے ٹوٹے تری محفل کے سوا
Bashar Nawazربط ہر بزم سے ٹوٹے تری محفل کے سوا
رنجشیں سب کی گوارا ہیں ترے دل کے سوا
ایسے پہلو میں سما جاؤ کہ جیسے دل ہو
چین ملتا ہے کہاں موج کو ساحل کے سوا
چیخ ٹکرا کے پہاڑوں سے پلٹ آتی ہے
کون سہتا ہے بھلا وار مقابل کے سوا
خشک پتوں سے چھڑا لیتی ہیں شاخیں دامن
کس نے یادوں سے نبھائی ہے یہاں دل کے سوا
ایک بچھڑے ہوئے سائے کے تعاقب میں بشرؔ
سبھی راہوں پہ گئے ہم رہ منزل کے سوا