کرو گے یاد تو ہر بات یاد آئے گی

Bashar Nawaz

کرو گے یاد تو ہر بات یاد آئے گی

گزرتے وقت کی ہر موج ٹھہر جائے گی

یہ چاند بیتے زمانوں کا آئنہ ہوگا

بھٹکتے ابر میں چہرہ کوئی بنا ہوگا

اداس رہ ہے کوئی داستاں سنائے گی

کرو گے یاد تو ہر بات یاد آئے گی

برستا بھیگتا موسم دھواں دھواں ہوگا

پگھلتی شمع پہ چہرہ کوئی گماں ہوگا

ہتھیلیوں کی حنا یاد کچھ دلائے گی

کرو گے یاد تو ہر بات یاد آئے گی

گلی کے موڑ پہ سونا سا کوئی دروازہ

ترستی آنکھ میں رستہ کسی کا دیکھے گا

نگاہ دور تلک جا کے لوٹ آئے گی

کرو گے یاد تو ہر بات یاد آئے گی