اور پھر دونوں فانوس سینے کے بجھ جائیں گے

Bashar Nawaz

اور پھر دونوں فانوس سینے کے بجھ جائیں گے

اوڑھ لے گی دھواں

دودھ کی دھار کی طرح اجلی نظر

ناخن پا سے زلفوں کے بادل تلک

جگمگاتی ہوئی کھال سے

خواہشوں کے پراسرار محمل تلک

ایک تحریر لکھے گی دیمک

فنا

ہر طرف بے حسی

تیرگی تیرگی

ہاں مگر صرف رخسار و لب

صرف رخسار و لب راکھ میں دابی چنگاریوں کی طرح

جگمگائیں گے

ان پر مرے اور ترے گرم بوسوں کی تحریر ہے

زندگی

اور پھر

وقت کی لمحہ لمحہ ابھرتی ہوئی سخت دیوار گر جائے گی

اور اپنے بدن

اور معمولی ناموں میں تحلیل ہو جائیں گے

نور کا پیڑ بن جائیں گے

آنے والے نئے موسموں کی ہوا

ہو کے شاخوں سے گزرے گی اور

آسمانی صداؤں میں گایا ہوا

ایک لا فانی و بیکراں گیت گونجے گا

اور گونجتا ہی رہے گا سدا

اور گونجتا ہی رہے گا سدا