کوئی صنم تو ہو کوئی اپنا خدا تو ہو
Bashar Nawazکوئی صنم تو ہو کوئی اپنا خدا تو ہو
اس دشت بے کسی میں کوئی آسرا تو ہو
کچھ دھندلے دھندلے خواب ہیں کچھ کانپتے چراغ
زاد سفر یہی ہے کچھ اس کے سوا تو ہو
سورج ہی جب نہ چمکے تو پگھلے گی برف کیا
بن جائیں وہ بھی موم مگر دل دکھا تو ہو
ہر چہرہ مصلحت کی نقابوں میں کھو گیا
مل بیٹھیں کس کے ساتھ کوئی آشنا تو ہو
خاموش پتھروں کی طرح کیوں ہوا ہے شہر
دھڑکن دلوں کی گر نہیں آواز پا تو ہو
باقی ہے ایک درد کا رشتہ سو وہ بھی اب
کس سے نبھائیں ہم کوئی درد آشنا تو ہو