افزوں جو شباب دم بدم ہوتا ہے

احمد حسین مائل

افزوں جو شباب دم بدم ہوتا ہے

گھٹتی ہے عمر کیا ستم ہوتا ہے

ہے مثل چراغ زندگانی مائلؔ

بتی جلتی ہے تیل کم ہوتا ہے