تمہارے روز و شب سے اب کوئی نسبت نہیں لیکن
Bashar Nawazتمہارے روز و شب سے اب کوئی نسبت نہیں لیکن
تمہارا عکس ہر لمحے کے آئینے میں ملتا ہے
بچھڑ کر تم سے کتنی شامیں ہنس ہنس کر گزاری ہیں
سجائے کیسے کیسے گیسوؤں میں پھول اشکوں کے
لٹائی آبروئے سجدہ کس کس آستانے پر
پئے ہیں کس قدر چھلکے ہوئے تلخاب آنکھوں کے
ملا چہرے پہ دن کے کس طرح غازہ تبسم کا
سیے ہیں زخم کس کس طرح سے بے خواب راتوں کے
تمہارے روز و شب سے اب کوئی نسبت نہیں لیکن
تمہاری شکل کا ہر ایک چہرے پر ہوا دھوکا
صدا جب بھی سنی کوئی تمہارا نام یاد آیا
نگاہ لطف کی چھاؤں نے دے دی ہو اماں جیسے
کسی کو حال پر اپنے کبھی جب مہرباں پایا
تمہارا نام لے کر پاس آئے درد کے سائے
تمہارا روپ پا کر دل نے کس کس کو نہ اپنایا
تمہارے روز و شب سے اب کوئی نسبت نہیں لیکن
تمہارا عکس ہر لمحے کے آئینے میں ملتا ہے