جب چھائی گھٹا لہرائی دھنک اک حسن مکمل یاد آیا
Bashar Nawazجب چھائی گھٹا لہرائی دھنک اک حسن مکمل یاد آیا
ان ہاتھوں کی مہندی یاد آئی ان آنکھوں کا کاجل یاد آیا
سو طرح سے خود کو بہلا کر ہم جس کو بھلائے بیٹھے تھے
کل رات اچانک جانے کیوں وہ ہم کو مسلسل یاد آیا
تنہائی کے سائے بزم میں بھی پہلو سے جدا جب ہو نہ سکے
جو عمر کسی کے ساتھ کٹی اس عمر کا پل پل یاد آیا
جو زیست کے تپتے صحرا پر بھولے سے کبھی برسا بھی نہیں
ہر موڑ پہ ہر اک منزل پر پھر کیوں وہی بادل یاد آیا
ہم زود فراموشی کے لیے بدنام بہت ہیں پھر بھی بشرؔ
جب جب بھی چلی مدماتی پون اڑتا ہوا آنچل یاد آیا