سنو تمہارا جرم تمہاری کمزوری ہے
Bashar Nawazسنو تمہارا جرم تمہاری کمزوری ہے
اپنے جرم پہ
رنگ برنگے لفظوں کی بے جان ردائیں مت ڈالو
سنو تمہارے خواب تمہارا جرم نہیں ہیں
تم خوابوں کی تعبیر سے ڈر کر
لفظوں کی تاریک گپھا میں چھپ رہنے کے مجرم ہو
تم نے ہواؤں کے زینے پر
پاؤں رکھ کر
قوس قزح کے رنگ سمیٹے
اور خلاؤں میں اڑتے
فرضی تاروں سیاروں کی باتیں کیں
تم مجرم ہو اس ننھی کونپل کے جس نے
صبح کی پہلی شوخ کرن سے سرگوشی کی
تم مجرم ہو اس آنگن کے جس میں شاید
اب بھی تمہارے بچپن کی معصوم شرارت زندہ ہے
تم مجرم ہو تم نے اپنے پاؤں سے لپٹی مٹی کو
ایک اضافی چیز سمجھ کر جھاڑ دیا