پیری میں شباب کی نشانی نہ ملی

احمد حسین مائل

پیری میں شباب کی نشانی نہ ملی

افسوس متاع زندگانی نہ ملی

جو کچھ کھویا تھا ڈھونڈ کر پھر پایا

ہر چیز ملی مگر جوانی نہ ملی