عکس ہر روز کسی غم کا پڑا کرتا ہے
Bashar Nawazعکس ہر روز کسی غم کا پڑا کرتا ہے
دل وہ آئینہ کہ چپ چاپ تکا کرتا ہے
بہتے پانی کی طرح درد کی بھی شکل نہیں
جب بھی ملتا ہے نیا روپ ہوا کرتا ہے
میں تو بہروپ ہوں اس کا جو ہے میرے اندر
وہ کوئی اور ہے جو مجھ میں جیا کرتا ہے
رنگ سا روز بکھر جاتا ہے دیواروں پر
کچھ دیئے جیسا دریچے میں جلا کرتا ہے
جانے وہ کون ہے جو رات کے سناٹے میں
کبھی روتا ہے کبھی خود پہ ہنسا کرتا ہے
روز راہوں سے گزرتا ہے صداؤں کا جلوس
دل کا سناٹا مگر روز بڑھا کرتا ہے