جانے کیا دیکھا تھا میں نے خواب میں

Bashar Nawaz

جانے کیا دیکھا تھا میں نے خواب میں

پھنس گیا پھر جسم کے گرداب میں

تیرا کیا تو تو برس کے کھل گیا

میرا سب کچھ بہہ گیا سیلاب میں

میری آنکھوں کا بھی حصہ ہے بہت

تیرے اس چہرے کی آب و تاب میں

تجھ میں اور مجھ میں تعلق ہے وہی

ہے جو رشتہ ساز اور مضراب میں

میرا وعدہ ہے کہ ساری زندگی

تجھ سے میں ملتا رہوں گا خواب میں