افق تا افق یہ دھندلکے کا عالم

Bashar Nawaz

افق تا افق یہ دھندلکے کا عالم

یہ حد نظر تک

نم آلود سی ریت کا نرم قالیں کہ جس پر

سمندر کی چنچل جواں بیٹیوں نے

کسی نقش پا کو بھی نہ چھوڑا

فضا اپنے دامن میں بوجھل خموشی سمیٹے ہے لیکن

مچلتی ہوئی مست لہروں کے ہونٹوں پہ نغمہ ہے رقصاں

یہ نغمہ سنا تھا مجھے یاد آتا نہیں کب

مگر ہاں

بس احساس ہے اس قدر قر نہا قرن پہلے

کہ گننا بھی چاہے تو کوئی جنہیں گن نہ پائے

بھلا ریگ ساحل کے پھیلے ہوئے ننھے ذروں کو کوئی کہاں تک گنے

مچلتی ہوئی مست لہروں کو ساحل سے چھٹنے کا غم ہی نہیں ہے

وداع سکوں جیسے کوئی ستم ہی نہیں ہے

جسے قر نہا قرن پہلے بھی میں نے سنا تھا

جسے لوگ سورج کے بجھنے تلک یوں ہی سنتے رہیں گے