چھیڑا ذرا صبا نے تو گلنار ہو گئے

Bashar Nawaz

چھیڑا ذرا صبا نے تو گلنار ہو گئے

غنچے بھی مہ جمالوں کے رخسار ہو گئے

وہ لوگ جن کی دشت نوردی کی دھوم تھی

مدت ہوئی کہ سنگ در یار ہو گئے

صدیوں کا غم سمٹ کے دلوں میں اتر گیا

ہم لوگ زندگی کے گنہ گار ہو گئے

زلفوں کی طرح پہلے بھی بادل حسین تھے

ڈولی پون تو اور طرحدار ہو گئے