Poetry
Poet
Meter
- جب ترا انتظار ہوتا ہےدل بہت بے قرار ہوتا ہےصفی اورنگ آبادی
- جو حسن و عشق سے امن و اماں میں رہتے ہیںکہاں کے لوگ ہیں وہ کس جہاں میں رہتے ہیںصفی اورنگ آبادی
- چھٹی امید تو میں حال دل کہنے سے کیوں ڈرتامثل مشہور ہے سرکار مرتا کیا نہیں کرتاصفی اورنگ آبادی
- چھوڑ ہر ایک کو برا کہناایسی صورت پہ تجھ کو کیا کہناصفی اورنگ آبادی
- خوب ہاتھوں ہاتھ بدلہ مل گیا بیداد کاآشیاں میرا جلا گھر جل گیا صیاد کاصفی اورنگ آبادی
- خوش ہوں یا دوست سے خفا ہوں میںآج کل کچھ نیا نیا ہوں میںصفی اورنگ آبادی
- دام خیال زلف بتاں سے چھڑا لیاکیا بال بال مجھ کو خدا نے بچا لیاصفی اورنگ آبادی
- درد فرقت کو کیا کرے کوئیہائے عادت کو کیا کرے کوئیصفی اورنگ آبادی
- دل جب سے درد عشق کے قابل نہیں رہااک ناگوار چیز ہے اب دل نہیں رہاصفی اورنگ آبادی
- دل عشق میں تباہ ہوا یا کہ جل گیااچھا ہوا خلش گئی کانٹا نکل گیاصفی اورنگ آبادی
- دوست خوش ہوتے ہیں جب دوست کا غم دیکھتے ہیںکیسی دنیا ہے الٰہی جسے ہم دیکھتے ہیںصفی اورنگ آبادی
- رنج ہے اس رنج سے ہم کو تو غم اس غم سے ہےجو شکایت ہم کو ان سے ہے وہ ان کو ہم سے ہےصفی اورنگ آبادی
- سیر چمن ہے اور وہ گل رو کنار میںمیں بے پیے بھی مست ہوں اب کی بہار میںصفی اورنگ آبادی
- شب ہجر آہ کدھر گئی کہوں کس سے نالہ کدھر گیاجو گزر گئی وہ گزر گئی جو گزر گیا وہ گزر گیاصفی اورنگ آبادی
- شوق دربار میں ملتے رہے دربانوں سےہم نے آنکھوں سے نہ دیکھا جو سنا کانوں سےصفی اورنگ آبادی
- عشق الزام بھی تو ہوتا ہےیہ برا کام بھی تو ہوتا ہےصفی اورنگ آبادی
- عشق ان سب سے الگ سب سے جدا ہوتا ہےچیخنے رونے تڑپ لینے سے کیا ہوتا ہےصفی اورنگ آبادی
- کچھ نہ پائی دل نے تسکیں اور کچھ پائی تو کیاایسی صورت سے تری صورت نظر آئی تو کیاصفی اورنگ آبادی
- کسی دن تو ہمارا درد دل سوز جگر دیکھوکبھی تو بھول کر آؤ کبھی تو پوچھ کر دیکھوصفی اورنگ آبادی
- کیا ہو تسکین جو ہو تیری سکونت دل میںرہے آغوش میں یا پیار کی صورت دل میںصفی اورنگ آبادی
- گھڑی بھر آج وہ مجھ سے رہا خوشخدا رکھے اسے اس سے سوا خوشصفی اورنگ آبادی
- نہ اپنے بس میں ہے رونا نہ ہائے ہنس دیناکوئی رلائے تو رونا ہنسائے ہنس دیناصفی اورنگ آبادی
- نہ روتا زار زار ایسا نہ کرتا شور و شر اتناالٰہی کیا کروں درد جگر اتنا جگر اتناصفی اورنگ آبادی
- وہ واقعات کسے یاد اک زمانہ ہواکسی نے کیا نہ کیا اور ہم پہ کیا نہ ہواصفی اورنگ آبادی
- وہی ہوتا ہے جو محبوب کو منظور ہوتا ہےمحبت کرنے والا ہر طرح مجبور ہوتا ہےصفی اورنگ آبادی
- ہائے اس بے خود شباب کا رنگلال انگارہ سا شراب کا رنگصفی اورنگ آبادی
- یہ تو سچ ہے کہ صفیؔ کی نہیں نیت اچھیہاں مگر پائی ہے ظالم نے طبیعت اچھیصفی اورنگ آبادی
- اتنے تو ہم خیال دل مبتلا ہیں ہمکل جس سے خوش تھے آج اسی سے خفا ہیں ہمصفی اورنگ آبادی
- جب ان سے دوستی نہ رہی دشمنی رہیبگڑی تو بگڑی اور بنی تو بنی رہیصفی اورنگ آبادی
- یوں تو ملنے کو اک زمانہ ملانہ ملا ہاں وہ بے وفا نہ ملاصفی اورنگ آبادی
- آفتاب آئے چمک کر جو سر جام شرابرند سمجھیں کہ ہے صادق سحر جام شراباحمد حسین مائل
- پیار اپنے پہ جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیںآئینہ دیکھ کے منہ چوم لیا کرتے ہیںاحمد حسین مائل
- جنبش میں زلف پر شکن ایک اس طرف ایک اس طرفگردش میں چشم سحر فن ایک اس طرف ایک اس طرفاحمد حسین مائل
- چوری سے دو گھڑی جو نظارے ہوئے تو کیاچلمن تو بیچ میں ہے اشارے ہوئے تو کیااحمد حسین مائل
- روئے تاباں مانگ موئے سر دھواں بتی چراغکیا نہیں انساں کی گردن پر دھواں بتی چراغاحمد حسین مائل
- زمزمہ نالۂ بلبل ٹھہرےمیں جو فریاد کروں غل ٹھہرےاحمد حسین مائل
- سمجھ کے حور بڑے ناز سے لگائی چوٹجو اس نے آئنہ دیکھا تو خود ہی کھائی چوٹاحمد حسین مائل
- شب ماہ میں جو پلنگ پر مرے ساتھ سوئے تو کیا ہوئےکبھی لپٹے بن کے وہ چاندنی کبھی چاند بن کے جدا ہوئےاحمد حسین مائل
- قبلۂ آب و گل تمہیں تو ہوکعبۂ جان و دل تمہیں تو ہواحمد حسین مائل
- کوئی حسین ہے مختار کار خانۂ عشقکہ لا مکاں ہی کی چوکھٹ ہے آستانۂ عشقاحمد حسین مائل
- کھڑے ہیں موسیٰ اٹھاؤ پردا دکھاؤ تم آب و تاب عارضحجاب کیوں ہے کہ خود تجلی بنی ہوئی ہے حجاب عارضاحمد حسین مائل
- کیا روز حشر دوں تجھے اے داد گر جواباعمال نامہ کا تو ہے پیشانی پر جواباحمد حسین مائل
- کیوں شوق بڑھ گیا رمضاں میں سنگار کاروزہ نہ ٹوٹ جائے کسی روزہ دار کااحمد حسین مائل
- محشر میں چلتے چلتے کروں گا ادا نمازپڑھ لونگا پل صراط پہ مائلؔ قضا نمازاحمد حسین مائل
- میں ہی مطلوب خود ہوں تو ہے عبثآج سے تیری جستجو ہے عبثاحمد حسین مائل
- نکلی جو روح ہو گئے اجزائے تن خراباک شمع بجھ گئی تو ہوئی انجمن خراباحمد حسین مائل
- وہ بت پری ہے نکالیں نہ بال و پر تعویذہیں دونوں بازو پہ اس کے ادھر ادھر تعویذاحمد حسین مائل
- وہ پارہ ہوں میں جو آگ میں ہوں وہ برق ہوں جو سحاب میں ہوںزمیں پہ بھی اضطراب میں ہوں فلک پہ بھی اضطراب میں ہوںاحمد حسین مائل
- غفلت کے تخم بونے والے اٹھےاوقات عزیز کھونے والے اٹھےاحمد حسین مائل
- مانا واعظ بڑا ہی علامہ ہےمحشر کا زبان پہ اس کے ہنگامہ ہےاحمد حسین مائل