ہم راہ عدم سے اضطراب آیا ہے
احمد حسین مائلہم راہ عدم سے اضطراب آیا ہے
میرے لیے دنیا میں عذاب آیا ہے
طفلی میں پڑی تھی دونوں ہاتھوں پر مار
اب دل کی ہے باری کہ شباب آیا ہے
ہم راہ عدم سے اضطراب آیا ہے
میرے لیے دنیا میں عذاب آیا ہے
طفلی میں پڑی تھی دونوں ہاتھوں پر مار
اب دل کی ہے باری کہ شباب آیا ہے