پتہ نہیں وہ کون تھا
Bashar Nawazپتہ نہیں وہ کون تھا
جو میرے ہاتھ
موگرے کی ڈال پنکھ مور کا تھما کے چل دیا
پتہ نہیں وہ کون تھا
ہوا کے جھونکے کی طرح جو آیا اور گزر گیا
نظر کو رنگ دل کو نکہتوں کے دکھ سے بھر گیا
میں کون ہوں
گزرنے والا کون تھا
یہ پھول پنکھ کیا ہیں کیوں ملے
یہ سوچتے ہی سوچتے تمام رنگ ایک رنگ میں اترتے گئے
تمام نکہتیں ادھر ادھر بکھر گئیں
یقین ہے۔۔۔۔۔۔ نہیں نہیں گمان ہے
وہ کوئی میرا دشمن قدیم تھا
دکھا کے جو سراب میری پیاس اور بڑھا گیا
میں بے حساب آرزوؤں کا شکار
انتہائے شوق میں فریب اس کا کھا گیا
گمان۔۔۔ نہیں نہیں یقین ہے
وہ کوئی میرا دوست تھا
جو دو گھڑی کے واسطے ہی کیوں نہ ہو
نظر کو رنگ دل کو نکہتوں سے بھر گیا
پتہ نہیں کدھر گیا
میں اس کو ڈھونڈھتا ہوا
تمام کائنات میں
ادھر ادھر بکھر گیا