Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. نہ پھر وہ میں تھانہ پھر وہ تم تھےBashar Nawaz
  2. نہیں میں یوں نہیں کہتاکہ یہ دنیا جہنم اور ہم سب اس کا ایندھن ہیںBashar Nawaz
  3. دے نشانی کوئی ایسی کہ سدا یاد رہےزخم کی بات ہے کیا زخم تو بھر جائیں گےBashar Nawaz
  4. وہی ہے رنگ مگر بو ہے کچھ لہو جیسییہ اب کی فصل میں کھلتے گلاب کیسے ہیںBashar Nawaz
  5. یہ اہتمام چراغاں بجا سہی لیکنسحر تو ہو نہیں سکتی دیئے جلانے سےBashar Nawaz
  6. آپ تو بات کا اخبار بنا دیتے ہیںگھر کا ماحول پر اسرار بنا دیتے ہیںIdris Azad
  7. اب تو اسباب و علل سے مجھے برتر کر دےاس فریضے پہ فرشتوں کو مقرر کر دےIdris Azad
  8. تمہارے حسن کے جلوے بہم نہیں ہیں میاںنہیں ہیں اب وہ تمہارے کرم نہیں ہیں میاںIdris Azad
  9. جب تجھے منبر یاقوت کٹہرا ہوا تھامیں سر عرش ترے سامنے ٹھہرا ہوا تھاIdris Azad
  10. چاہت مری مٹی میں عجب چھوڑ گیا ہےدل جل کے بھی خاشاک طلب چھوڑ گیا ہےIdris Azad
  11. چمن کی سیر بھی کافی رہی انا کے لیےصبا نے پھول کے بوسے مجھے دکھا کے لیےIdris Azad
  12. خدا نے جب مجھ بشر کو اپنا خلف بنایا سوال یہ ہےتو میں نے کیوں آسمان سر پر نہیں اٹھایا سوال یہ ہےIdris Azad
  13. دشمن جاں کے لیے لفظ مسیحا نکلاسچ مرے منہ سے تو نکلا مگر آدھا نکلاIdris Azad
  14. زمانہ آنکھ سے اوجھل مکان سامنے ہےچھپی ہوئی ہے حقیقت گمان سامنے ہےIdris Azad
  15. صبر سے ٹوٹا ہوا ضبط سے ہارا ہوا میںجتنا باقی بچا ہوں اتنا تمہارا ہوا میںIdris Azad
  16. عجلت کو اختیار نہ کر انتظار کرخود پر جنوں سوار نہ کر انتظار کرIdris Azad
  17. گزشتہ شب جو ہستی بر فراز دار تھی میں تھاپھر اگلے دن جو سرخی شوکت اخبار تھی میں تھاIdris Azad
  18. مرے واسطے وہ عدم ہوئے جو صف عدو سے نکل گئےمری محفلوں سے نکل گئے مری گفتگو سے نکل گئےIdris Azad
  19. مصر سے ریت چلی آتی ہے تکرار کے ساتھحسن کا نام لیا جاتا ہے بازار کے ساتھIdris Azad
  20. میں اپنے عشق میں پیہم زوال دیکھتا ہوںجو تیرے چاہنے والوں کا حال دیکھتا ہوںIdris Azad
  21. وفور شعر ہے اور رات ہونے والی ہےتو چاند ہے تو ملاقات ہونے والی ہےIdris Azad
  22. وہ حشر خیز عنایات پر اتر آیابلا کا رنگ ہے اور رات پر اتر آیاIdris Azad
  23. ہمارے ہوتے ہوتے رہ گئے ہیںقسم سے آپ اچھے رہ گئے ہیںIdris Azad
  24. ہم ایسے لوگ شیشے میں اتر جاتے ہیں دل داراچھنک کر ٹوٹ جاتے ہیں بکھر جاتے ہیں دل داراIdris Azad
  25. ہم بدلتے نہیں بدلتے ہیںاس لیے ہم سے لوگ جلتے ہیںIdris Azad
  26. یوں بظاہر تو پس پشت نہ ڈالو گے ہمیںجانتے ہیں بڑی عزت سے نکالو گے ہمیںIdris Azad
  27. اسے احساس ہونا چاہیے تھاکہ بچے کو کھلونا چاہیے تھاIdris Azad
  28. بجتا رہتا ہے مسلسل کسی بربط کی طرحکس کی دستک پہ لگا ہے مرا دروازۂ دلIdris Azad
  29. تری تعریف کرنے لگ گیا ہوںمحبت نے دیانت چھین لی ہےIdris Azad
  30. تری رونمائی کی رات بھی میں جہاں کھڑا تھا کھڑا رہاکہ ہجوم شہر کو چیر کر مجھے راستہ نہیں چاہیےIdris Azad
  31. تم نے تاروں کو رہنما جاناہم نے تاروں کی رہنمائی کیIdris Azad
  32. ٹوٹی نشست دل تو محبت کی آبروواپس اسی مقام پہ لائی نہ جا سکیIdris Azad
  33. دل کا دروازہ کھلا تھا کوئی ٹکتا کیسےجو بھی آتا تھا وہ جانے کے لیے آتا تھاIdris Azad
  34. عید کا چاند تم نے دیکھ لیاچاند کی عید ہو گئی ہوگیIdris Azad
  35. کھینچ لاتی ہے سمندر سے جزیرے سر آبجب مری آنکھ کو منظر کی تمنا ہو جائےIdris Azad
  36. میں اپنے آپ سے رہتا ہوں دور عید کے دناک اجنبی سا تکلف نئے لباس میں ہےIdris Azad
  37. میں تو اتنا بھی سمجھنے سے رہا ہوں قاصرراہ تکنے کے سوا آنکھ کا مقصد کیا ہےIdris Azad
  38. میں جس میں دفن ہوں اک چلتی پھرتی قبر ہے یہجنم نہیں تھا وہ دراصل مر گیا تھا میںIdris Azad
  39. میں نے جتنے بھی لوگ دیکھے ہیںسب کے سینوں میں روگ دیکھے ہیںIdris Azad
  40. نہیں نہیں میں اکیلا تو دل گرفتہ نہ تھاشجر بھی بیٹھا تھا مجھ سے کمر لگائے ہوئےIdris Azad
  41. وہ شوق ربط نو میں کھڑی جھولتی رہیمیں شاخ اعتبار سے پھل کی طرح گراIdris Azad
  42. وہ شہر بھر کو فسانے سناتا پھرتا ہےہمارے سامنے سچا بنے تو بات بنےIdris Azad
  43. اس کی دیوار کا جو روزن ہےخور کا چشم و چراغ روشن ہےکشن کمار وقار
  44. الفت شیریں کو بھاری سل سمجھسہل کو اے کوہ کن مشکل سمجھکشن کمار وقار
  45. باغ الفت میں گل جو خود رو ہےخون بلبل کا رنگ ہے بو ہےکشن کمار وقار
  46. پامال خرام ناز کیجےٹھکرائیے سرفراز کیجےکشن کمار وقار
  47. تری اے شاہ خوباں ہو بلا چٹوہ بوسہ دے کہ ہو جس کی صدا چٹکشن کمار وقار
  48. جس کو پاس اس نے بٹھایا ایک دناس کو دنیا سے اٹھایا ایک دنکشن کمار وقار
  49. چشم خونبار میں کیوں لخت جگر جمع کریںغنچۂ گل کی طرح کا ہے کو زر جمع کریںکشن کمار وقار
  50. چور دروازہ یاں کے ہم بھی ہیںان کو روزن سے جھانکے ہم بھی ہیںکشن کمار وقار