یہ حسن ہے جھرنوں میں نہ ہے باد چمن میں
Bashar Nawazیہ حسن ہے جھرنوں میں نہ ہے باد چمن میں
جس حسن سے ہے چاند رواں نیل گگن میں
اے کاش کبھی قید بھی ہوتا مرے فن میں
وہ نغمۂ دلکش کہ ہے آوارہ پون میں
اٹھ کر تری محفل سے عجب حال ہوا ہے
دل اپنا بہلتا ہے نہ بستی میں نہ بن میں
اک حسن مجسم کا وہ پیراہن رنگیں
ڈھل جائے دھنک جیسے کسی چندر کرن میں
اے نکہت آوارہ ذرا تو ہی بتا دے
ہے تازگی پھولوں میں کہ اس شوخ کے تن میں
دیکھا تھا کہاں اس کو ہمیں یاد نہیں ہے
تصویر سی پھرتی ہے مگر اب بھی نین میں
اس دور میں آساں تو نہ تھی ایسی غزل بھی
کچھ فن ابھی زندہ ہے مگر ملک دکن میں