جب کبھی ہوں گے تو ہم مائل غم ہی ہوں گے

Bashar Nawaz

جب کبھی ہوں گے تو ہم مائل غم ہی ہوں گے

ایسے دیوانے بھی اس دور میں کم ہی ہوں گے

ہم تو زخموں پہ بھی یہ سوچ کے خوش ہوتے ہیں

تحفۂ دوست ہیں جب یہ تو کرم ہی ہوں گے

بزم عالم میں جب آئے ہیں تو بیٹھیں کچھ اور

بس یہی ہوگا نا کچھ اور ستم ہی ہوں گے

جب بھی برباد وفا کوئی نظر آئے تمہیں

غور سے دیکھ لیا کرنا وہ ہم ہی ہوں گے

کوئی بھٹکا ہوا بادل کوئی اڑتی خوشبو

کون کہہ سکتا ہے اک دن یہ بہم ہی ہوں گے