بہت تھا خوف جس کا پھر وہی قصا نکل آیا
Bashar Nawazبہت تھا خوف جس کا پھر وہی قصا نکل آیا
مرے دکھ سے کسی آواز کا رشتا نکل آیا
وہ سر سے پاؤں تک جیسے سلگتی شام کا منظر
یہ کس جادو کی بستی میں دل تنہا نکل آیا
جن آنکھوں کی اداسی میں بیاباں سانس لیتے ہیں
انہیں کی یاد میں نغموں کا یہ دریا نکل آیا
سلگتے دل کے آنگن میں ہوئی خوابوں کی پھر بارش
کہیں کونپل مہک اٹھی کہیں پتا نکل آیا
پگھل اٹھتا ہے اک اک لفظ جن ہونٹوں کی حدت سے
میں ان کی آنچ پی کر اور بھی سچا نکل آیا
گماں تھا زندگی بے سمت و بے منزل بیاباں ہے
مگر اک نام پر پھولوں بھرا رستا نکل آیا