ہر نئی رت میں نیا ہوتا ہے منظر میرا

Bashar Nawaz

ہر نئی رت میں نیا ہوتا ہے منظر میرا

ایک پیکر میں کہاں قید ہے پیکر میرا

میں کہاں جاؤں کہ پہچان سکے کوئی مجھے

اجنبی مان کے چلتا ہے مجھے گھر میرا

جیسے دشمن ہی نہیں کوئی مرا اپنے سوا

لوٹ آتا ہے مری سمت ہی پتھر میرا

جو بھی آتا ہے وہی دل میں سما جاتا ہے

کتنے دریاؤں کا پیاسا ہے سمندر میرا

تو وہ مہتاب تکیں راہ اجالے تیری

میں وہ سورج کہ اندھیرا ہے مقدر میرا